آرزوئے سحر- نظم نعت (2018)

ہر طرف سے گھیر رکھا ہے مجھے آفات نے
ہر طرف سے سرخ آندھی روز و شب پر ہے محیط
ہر طرف سے راکھ گرتی ہے برہنہ جسم پر
ہر طرف سے خشک سالی کشتِ جاں پر ہے محیط

میں منافق ساعتوں میں سانس لیتا ہوں حضور ﷺ
میرے دامن میں چراغِ آرزو جلتے نہیں
روشنی امید کی جانے کہاں ہے کھو گئی
شام کے سائے افق پر ہیں کبھی ڈھلتے نہیں

آپ ﷺ کی چوکھٹ سے وابستہ رہوں، آقا حضور ﷺ
اَن گِنت لطف و عطا کے پھول شاخوں پر کھلیں
اَن گِنت انوار اتریں لفظ کی محراب میں
اَن گِنت اعزاز مجھ کو بھی غلامی کے ملیں

مصر کے بازار میں سکّہ نہیں چلتا مرا
معتبر، سر تا قدم، میرا خدا مجھ کو کرے
سر اٹھا کر مجھ کو بھی چلنے کا آجائے ہنر
شہرِ مدحت کا زرِ حرفِ ثنا مجھ کو کرے

اپنی آلِ پاک کے قدمَین کا دھوون، حضور ﷺ
اپنی امّی جان کا صدقہ مجھے بھی ہو عطا
مجھ کو بھی حسنین کی اترن کی رعنائی ملے
خاک ہوں، سرکار ﷺ ! ہو جاؤں میں خاکِ کربلا

ہر گھڑی، آقا ﷺ ، مدینے کی چلے ٹھنڈی ہوا
میرے نخلِ آرزو پر ہو بہاروں کا نزول
آئنہ خانے کے سارے عکس لے جائے کوئی
میری نسلوں کو ملے بس آپ ﷺ کے قدموں کی دھول

ہر طرف محرومیوں کا ہے دھواں بکھرا ہوا
گھر کے اندر تیرگی ہے گھر کے باہر تیرگی
آج کا انسان گم ہے ظلمتِ آفاق میں
روشنی ہو، روشنی ہو، روشنی ہو روشنی