ڈپریشن کے حوالے سے ایک حمدیہ/نعتیہ نظم- نظم نعت (2018)

یقیں کی فَصْل سرِ جاں جلائی جاتی ہے
شعور و ہوش کی مشعل بجھائی جاتی ہے

حصارِ خوف میں میرا بدن اترتا ہے
لہو میں کرب کی چادر بچھائی جاتی ہے

غبارِ یاس کفن سا دکھائی دیتا ہے
فصیلِ شہرِ تمنا گرائی جاتی ہے

جبیں پہ سرد پسینے کے ہاتھ اگتے ہیں
سپاہِ شر میرے اندر بٹھائی جاتی ہے

وقار و عظمتِ اِنساں کا کچھ سوال نہیں
ردائے حفظِ مراتب اٹھائی جاتی ہے

تڑپ حیات کی بے موت مرنے لگتی ہے
ضمیرِ مردہ کی منزل بتائی جاتی ہے