گنبدِ خضرا- نظم نعت (2018)

گنبدِ خضرا

ازل سے شاخِ مدحت پر کِھلا ہے گنبدِ خضرا
ابد تک بزمِ امکاں میں سجا ہے گنبدِ خضرا

زمیں پر اس لئے بادِ بہاری رقص کرتی ہے
کہ اس پر سیدِ سادات ﷺ کا ہے گنبدِ خضرا

فرشتے آسماں سے روز و شب روضے پر آتے ہیں
مؤدب مہربانوں میں گھرا ہے گنبدِ خضرا

کبوتر کہہ رہے تھے آج بھی ٹھنڈی ہواؤں سے
درودوں سے، سلاموں سے بنا ہے گنبدِ خضرا

خزاں کے زرد ہاتھوں میں مصائب ہی مصائب ہیں
خدا کا شکر ہے ہم کو ملا ہے گنبدِ خضرا

زمیں والو! بہت سا قرض تم پر ہے ابھی واجب
خدا نے طشتِ رحمت میں رکھا ہے گنبدِ خضرا

شکایت کیا کریں گے تشنگی کی قافلے والے
عطاؤں کی برستی اک گھٹا ہے گنبدِ خضرا

مرادوں کے کھلے ہیں پھول ہر زائر کے دامن میں
کرم کے موسموں کی انتہا ہے گنبدِ خضرا

قلم جھک کر بجا آداب لائے شہرِ مدحت میں
خدا کی رحمتوں کا سلسلہ ہے گنبدِ خضرا

کروڑوں کہکشاؤں کے کروڑوں عکس ہیں جس میں
وہ اک ارض و سما میں آئینہ ہے گنبدِ خضرا

سروں پر گٹھریاں محرومیوں کی لے کے چلتے ہیں
ابد تک مرکزِ جود و سخا ہے گنبدِ خضرا

ریاضؔ اپنے مقدر کی بلائیں خوب لیتا ہوں
یہ کس نے میری تختی پر لکھا ہے گنبدِ خضرا