اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر- نظم نعت (2018)

یا نبی ﷺ، یا نبی ﷺ، یا نبی ﷺ، یا نبی ﷺ، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر
سیدی ﷺ، مرشدی ﷺ، مرشدی ﷺ، سیدی ﷺ، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

نعت گوئی ہے اس کا حقیقی سفر، امتِ بے نوا کا ہے یہ نوحہ گر
اشکِ تر میں ہے ڈوبی ہوئی شاعری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کا ہر خواب طیبہ کی گلیوں کا ہے، ذائقہ صرف مصری کی ڈلیوں کا ہے
آپ ﷺ کے نقشِ پا کی ہے جلوہ گری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

خوش نصیبی میں بھی اس کا ثانی نہیں، یہ فقط آنسوؤں کی کہانی نہیں
اس کی تختی پہ لکھا گیا ’’یا نبی ﷺ ‘‘ اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے سارے اثاثے مدینے کے ہیں، آپ ﷺ کی رحمتوں کے خزینے کے ہیں
اس کا منصب بھی توصیف ہے آپ ﷺ کی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

چاند لکھے گا مدحت کے اوراق پر، پھول رکھے گا طاعت کے اسباق پر
دور شہرِ ادب کی ہو بے رونقی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

آپ ﷺ میرِ عرب، آپ ﷺ میرِ عجم، آپ ﷺ روزِ ازل سے کرم ہی کرم
آپ ﷺ کو انبیاء پر ملی برتری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

ہر طرف رتجگا آپ ﷺ کی نعت کا، ہر طرف ہے چراغاں سا ہونے لگا
یہ بھی مدحت نگاری کی ہو گی صدی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

شہرِ اقبال یا شہرِ لاہور ہو، یا غلاموں کی بستی کوئی اور ہو
اس کا سب کچھ مدینے میں ہے آج بھی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

جو لِکھّے ثنا وہ قلم دیجئے، اس پہ سرکار ﷺ اتنا کرم کیجئے
اس کی مدحت نگاری کو حرفِ جلی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

بے بسی اس کے پاؤں کی زنجیر ہے، چشمِ تر سے لکھی ایک تحریر ہے
اس پہ اپنی ہی دیوار ہے گر پڑی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کو محرومیوں کا کفن ہے ملا، اس کو اجڑا ہوا اک چمن ہے ملا
اس کے قاتل کریں اس سے کیا منصفی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

جس میں پانی نہیں ایسا دریا ہے یہ، بھوک کے جنگلوں میں بھی تنہا ہے یہ
ہر قدم پر مصائب کی دیوار سی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

سسکیوں سے عبارت ہے بابِ سخن، ہچکیوں سے ہے معمور اس کا چمن
آنسوؤں سے فروزاں ہے اس کی گلی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے بچے اداسی کے جنگل میں ہیں، کربِ تیرہ شبی کے مقابل میں ہیں
رو رہا ہے سرِ شام یہ آج بھی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

خود فریبی کے جنگل میں رہتا ہے یہ، آنسوؤں کے سمندر میں بہتا ہے یہ
برف سی اس کے چہرے پہ گرنے لگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

جو بھی دکھ تھا مقدر میں لکھا ہوا، اُس کو جھیلا سمجھ کر رضائے خدا
اس کے ہونٹوں پہ پھر کھل اٹھی نغمگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یوں تو زندہ خدا کی خدائی میں ہے، یا نبی ﷺ، کب سے اس کی کلائی میں ہے
اضطرابِ مسلسل کی یہ ہتھکڑی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

رزق اس کا کشادہ ہو میرے خدا، یا نبی ﷺ، ہے غریبوں کی یہ التجا
ڈس رہی ہے اسے آج بھی مفلسی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یہ زمینی حقائق سے ہے آشنا، خود قلم کا محافظ ہے بے دست و پا
ہر منافق سے اس کی رہی دشمنی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یہ گنہگار ہے، یہ خطاکار ہے، امتی آپ ﷺ کا میرے سرکار ﷺ ہے
اس قدر تو برا یہ نہیں آدمی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

ایک ہلچل سی ہے آج امواج میں، گھِر گیا ہوں گھٹاؤں کی افواج میں
لے کے نکلا ہوں میں کشتیاں کاغذی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس قدر بھوک ہے، ننگ ہے، دھوپ ہے، موت کا اک انوکھا سا یہ روپ ہے
آدمی ہر قدم پر کرے خودکشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے ساماں میں زادِ سفر بھی نہیں، اس کے ہاتھوں میں کوئی ہنر بھی نہیں
جل گئی اس کے خوابوں کی بارہ دری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کی شاہوں سے، سرکار ﷺ بنتی نہیں، اس کے پاؤں تلے کب رہی ہے زمیں
خاک اس کے مقدر کی اڑنے لگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

آج بھی جَبر کے ہیں یہ میدان میں، خطۂ صبر میں، غم کے طوفان میں
المدد، اس کی پھر جان پر ہے بنی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

بعد مرنے کے بھی ہے قلم ہاتھ میں، سرمدی روشنی کا عَلَم ہاتھ میں
نعت لکھتا رہے گا اُدھر آپ ﷺ کی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

ہے کٹھن ہو گئی ابتلائے سفر، اس کی تدبیر ہر ایک ہے بے اثر
داستاں روز و شب کی ہے آنسو بھری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یہ مدینے کا، آقا ﷺ، بھکاری بھی ہے، اس کی قسمت میں اختر شماری بھی ہے
صبح دم اس کے آنگن میں بھی شام تھی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

زندگی اک ادھوری کہانی سی ہے، کچھ زمینی سی، کچھ آسمانی سی ہے
خشک ہوتی نہیں چشمِ تر کی نمی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس قدر آسمانوں سے پانی گرا، اس کی فصلوں کا دامن ادھڑنے لگا
اس کی بستی سمندر میں ڈوبی رہی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

قَصْر جھوٹی اناؤں کا گرتا رہا، نقش ہر بے نشاں اِس کا ہونے لگا
تیرگی تیرگی ہر طرف تیرگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

جگنوؤں کی قطاریں ہوا میں نہیں، تتلیوں کی بہاریں فضا میں نہیں
کھو گئی ہے کہاں پھول کی دلکشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

چاند تارے گلی سے گذرتے نہیں، قافلے روشنی کے اترتے نہیں
ہر پرندے کے لب پر بھی ہے خامشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

جَبْر کی ساعتوں میں سلایا گیا، کاغذی کشتیوں میں بٹھایا گیا
اس کا پیچھا نہ چھوڑے گی یہ سرکشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

سرخ آندھی سجاتی ہے مقتل نئے، بستیوں کے بجھاتی رہی ہے دیے
گل کھلانے لگی ہے ہوا سر پھری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کی بستی کے انسان جائیں کدھر، ہر طرف تشنہ کامی کے لاکھوں کھنڈر
بھوت تہذیبِ حاضر کا ہے خودکشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اہلِ کوفہ کے ہیں ہاتھ لمبے بہت، بولیاں ہیں بہت اور لہجے بہت
کیا گواہی بھلا دے گی تر دامنی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے ٹوٹے ہوئے سب قلمدان ہیں، اس کے چاکِ گریباں پریشان ہیں
کوئی کرتا نہیں ان کی بخیہ گری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

خشک پتے خزاں میں ہیں جھڑنے لگے، پیرہن فکرِ نو کے بدلنے لگے
علم و دانش میں ہے کب سے بوسیدگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

کب سے جرمِ ضعیفی مقدر بنا، ہر قدم پہ نیا اک دھماکہ ہوا
یا نبی ﷺ، اہلِ ایماں کی چارہ گری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

سوچتی اس کو مردہ گمانوں سے ہے، روکتی اس کو اونچی اڑانوں سے ہے
اس کے دامن سے لپٹی ہوئی بزدلی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

لوگ دیتے ہیں جھوٹی تسلی اسے، کس طرح پھول امید کا کھل اٹھے
چارہ گر صرف کرتے ہیں خانہ پری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یہ دیوانہ طیبہ کی گلیوں کا ہے، رنگ مدحت کی دلکش سی کلیوں کا ہے
یہ سلامت خدا رکھّے دیوانگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اپنے زخموں کی چادر چھپاتا پھرے، آنسوؤں کی تپش کم بتاتا پھرے
جان و دل کی کرے گی ہوا مخبری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

میزباں آپ کے قاصدوں کا بنے، آپ ﷺ کے نام مکتوب لکھتا رہے
تا قیامت چلے رسمِ نامہ بری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

قلبِ مضطر کو اذنِ سکونت ملے، ہر مصّلے پہ سجدوں کی دولت ملے
اب اگے کشتِ جاں میں بھی آسودگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کو طیبہ کی ٹھنڈی ہوائیں ملیں، اس کی شاخوں پہ رنگین کلیاں کھلیں
اس کی آنکھوں میں طیبہ کی ہے دلکشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے بچوں کے خوابوں کو تعبیر دیں، پھول لمحوں کی ہاتھوں میں زنجیر دیں
اس کے کشکول میں بھی زرِ آگہی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

امن کی فاختائیں فضاؤں میں ہوں، عافیت کی ہوائیں دعاؤں میں ہوں
خطۂ پاک کی بھی مٹے تشنگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے آنگن میں اترے بہارِ سخن، پھول مہکیں نبی جی ﷺ، چمن در چمن
رنگ لائے کبھی اس کی زندہ دلی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے کھیتوں کا پانی چرایا گیا، ہر قدم پر اسے ہے ستایا گیا
خلعتیں ہوں عطا اس کو انوار کی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کو مرقد میں ایسا قلم ہو عطا، جو لکھے صرف یا مصطفیٰ ﷺ، مصطفیٰ ﷺ
جس کے اندر بھی، باہر بھی ہو چاندنی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

حوضِ کوثر پہ بھی نعت خوانی کرے، حَشْر کے روز بھی زر فشانی کرے
اس کی ہے زندگی نعت سرکار ﷺ کی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کی محرومیوں کا ازالہ بھی ہو، آپ ﷺ کی رحمتوں کا حوالہ بھی ہو
اس کے بچوں کے دامن میں ہو ہر خوشی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

گرتے پڑتے ہوؤں کو ہو لاٹھی عطا، پھول آنگن میں رکھے چمن کی ہوا
دور ہو، یا نبی ﷺ، اس کی پسماندگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

دامنِ شوق میں آبِ زم زم بہے، اک تسلسل سے رحمت برستی رہے
پھرلگے عشق کے آنسوؤں کی جھڑی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کو تازہ ہواؤں کی چادر ملے، سلکِ رحمت سے ہر چاک سلتا رہے
ذہن سے دور ہو اس کی فرسودگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

سر برہنہ ہے تاجِ مسرت ملے، اس کی شاداب شاخوں پہ خوشبو کھلے
اس کے چہرے پہ ہے کب سے پژمردگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کا اسلوب بھی اک نئی چیز ہے، شہرِ طیبہ کی ہر سوچ مہمیز ہے
اس کو الفاظ بھی سب ملیں سرمدی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے خارج میں بادِ بہاری چلے، ساتھ صدیوں تلک بے قراری چلے
اس کا سرسبز ماحول ہو داخلی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

شاعرِ بے نوا آپ ﷺ کا در بدر، یا نبی ﷺ، اس کی ہے التجا مختصر
آئنے میں نہ ہوں شام کے ماتمی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کی لوح و قلم میں چراغاں رہے، آپ ﷺ کے نام کی باد و باراں رہے
اب عطا ہو بلاغت کی برجستگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کے آنگن میں ٹھنڈی ہوائیں چلیں، بھر کے جھولی کرم سے دعائیں چلیں
رُت خزاں کی، نبی جی ﷺ، یہ کب جائے گی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کو علم و ہنر بھی عطا کیجئے، اس کے حق میں مسلسل دعا کیجئے
ہے جہالت نما اس کی دانشوری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کی بزمِ تخیل بھی بے نور ہے، منزلِ حق یہاں سے بہت دور ہے
ختم ہو اس کی سوچوں کی آوارگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

ہر طرف پھول توصیف کے کھل اٹھیں، ہر طرف روشنی کے دریچے کھُلیں
اس کی کلکِ ثنا کی ہو رخشندگی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

اس کا کشکولِ عرضِ تمنا بھریں، اس کی جانب بھی قاصد روانہ کریں
یہ تذبذب کا عالم بھی ہو عارضی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

خاکِ طیبہ کا اس کو کفن دیجئے، باغِ جنت کے سرو و سخن دیجئے
اس کے لب پر کھلے جب درود آخری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یا نبی ﷺ، اس کے دامن میں کچھ بھی نہیں، ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں وہیں کے وہیں
نوکری اپنی اولاد کی نوکری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

دست بستہ کھڑا ہے یہ دربار میں، روشنی، یا نبی ﷺ، اس کے افکار میں
ہے ریاضِؔ حزیں آپ ﷺ کا امتی، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر

یہ ریاضؔ آپ ﷺ کے گھر کا نوکر بھی ہے، آپ ﷺ کے در کا، آقا ﷺ، گداگر بھی ہے
یا نبی ﷺ، اس برس اس کو ہو حاضری، اپنے شاعر کے احوال پر بھی نظر