پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کسی نے- نظم نعت (2018)

پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کس نے
اقبالؒ کی نگری سے مدینے کا مسافر
جو بہرِ سلامی درِ آقا ﷺ پہ ہے آیا
جو زادِ سفر ساتھ کبھی رکھتا نہیں ہے
ہے شہرِ مدینہ کے گلی کوچوں کا منگتا
کس رقص کے عالم میں تھا کشکولِ گدائی

کچھ وَجْدِ مسلسل کا ہمیں حال سناؤ
جو اس کے دل و جاں پہ تھی گذری وہ بتاؤ
ء
پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کسی نے
جب اس کے مقدر کا ستارا ہوا روشن
اور گنبدِ خضرا پہ نظر اس کی پڑی تھی
کس حال میں شاعر تھا مدینے کی فضا میں
مدحت کے چمن زاروں میں اڑتا ہے ادب سے
وہ قریۂ سرکارِ مدینہ کا ہے باسی

دامانِ طلب خاکِ مدینہ سے بھرے گا
دیوانہ بڑے شوق سے یہ کام کرے گا
ء
پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کسی نے
گجرے لیے ہاتھوں میں درودوں کے ہزاروں
طیبہ کے گلستاں میں مہکتا ہے ہمیشہ
طیبہ کے در و بام کو چومے گا ادب سے
گذرے گا وہ لمحاتِ حضوری سے بھی پہروں
اشکوں کے وہ جھرمٹ میں سنائے گا کہانی

وہ خاکِ مدینہ کا طلب گار ہے رہتا
خوشبوئے مدینہ میں وہ سرشار ہے رہتا
ء
پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کسی نے
شاعر وہ ریاضؔ اپنے ہے آقا ﷺ کا بھکاری
آقا ﷺ کے غلاموں کے غلاموں کا ہے نوکر
آنکھیں کبھی تھمتی ہی نہیں جس کی سفر میں
رہتا ہے مواجہے کی فضاؤں میں وہ اکثر
وہ تاجِ مدینہ کی رعایا میں ہے شامل

چوکھٹ پہ کبھی جھوم کے لہراتا تو ہو گا
سرکار ﷺ کے قدموں سے لپٹ جاتا تو ہو گا
ء
پوچھا ہے یہ طیبہ کی ہواؤں سے کسی نے
وہ سرورِ کونین ﷺ کا ادنیٰ سا سپاہی
اک چھوٹا سا گھر جس نے مدینے میں ہے مانگا
جب اس کو ملا ہو گا وہاں اذنِ حضوری
کس حال میں آقا ﷺ کے غلاموں میں کھڑا تھا
کس حال میں گذرا تھا مواجہے کے چمن سے

اشکوں کی وہ رم جھم میں کھڑا ہو گا ادب سے
دہلیزِ پیمبر ﷺ پہ پڑا ہو گا ادب سے
ء
پوچھا ہے مدینے کی ہواؤں سے کسی نے
احوالِ وطن کہتے ہوئے رویا تو ہو گا
ہر زخم عریضے میں رقم کرتا ہے شاعر
امت کا لہو اس کی فغاں سے ہے ٹپکتا
ہر لفظ میں اشکوں کے دیے جلتے تو ہوں گے
وہ جرمِ ضعیفی میں پریشان ہے خود بھی

دامانِ طلب در پہ بچھائے ہوئے ہو گا
افکارِ پریشاں کو چھپائے ہوئے ہو گا
ء
طیبہ کی ہواؤں نے جواباً یہ کہا ہے
تاریخِ غلامی اسے ازبر ہے ازل سے
دیوانہ ہے دیوانہ مدینے کی گلی کا
اقبالؒ کے یہ شہرِ محبت سے ہے آیا
اک رقص کے عالم میں شب و روز ہیں اس کے
ہر بچے کے ہاتھوں میں کھلونا یہ بنا ہے

ہر زائرِ طیبہ کے قدم چوم رہا ہے
لمحاتِ مسرت میں کھڑا جھوم رہا ہے
ء
طیبہ کی ہواؤں نے جواباً یہ کہا ہے
کہتا ہے مدینے کا مسافر ہوں ازل سے
طیبہ کے گداگر مرے ساتھی ہیں پرانے
زنجیرِ غلامی کو سرہانے میں ہوں رکھتا
کشکولِ گدائی مرے ہاتھوں میں ہے رہتا
آنکھوں کی چمک عشقِ پیمبر ﷺ کی ہے مظہر

گجرے میں بناتا ہوں درودوں کے مسلسل
اور پھول سجاتا ہوں سلاموں کے مسلسل