اے مدینے کے مسافر!- نظم نعت (2018)

اے مدینے کے مسافر! بن کے تصویرِ ادب
طشتِ دل پر رکھ کے کرنا پیش میرا بھی درود
طشتِ دل پر رکھ کے کرنا پیش میرا بھی سلام
طشتِ دل پر رکھ کے کرنا پیش حرفِ آرزو
طشتِ دل پر رکھ کے کرنا پیش اشکوں کے چراغ
طشتِ دل پر رکھ کے کرنا پیش نغماتِ ثنا

اے مدینے کے مسافر! بن کے تصویرِ ادب
عرض کرنا، یارسول اللہ وہ شاعر آپ ﷺ کا
جس کے ہونٹوں پر کھلے رہتے ہیں مدحت کے گلاب
جس کی آنکھوں میں سجا رہتا ہے شہرِ بے مثال
جس کے گھر کی سب کنیزوں کے ہے لب پر ’یانبی‘
کہہ رہا تھا منتظر ہیں سب بلاوے کے حضور ﷺ


اے مدینے کے مسافر! بن کے تصویرِ ادب
عرض کرنا، کیجئے گا، چادرِ رحمت عطا
کہہ رہا تھا، کیجئے گا میرے حق میں بھی دعا
کہہ رہا تھا منصبِ مدحت مرا قائم رہے
لڑکھڑاتی میری سوچوں کو پذیرائی ملے
جلتے بجھتے میرے لفظوں کو عطا ہو روشنی