تخلیقِ نعت کا اساسی عمل- نظم نعت (2018)

دعاؤں کی ہتھیلی پر، چراغِ آرزو رکھ کر
نزولِ آیتِ عشقِ نبی ﷺ کی راہ دیکھوں گا
دھنک کے نام کرنوں سے عریضہ روز لکھتا ہوں
مَیں خوشبوؤں کی انگلی تھام کر طیبہ میں آتا ہوں
مَیں کشتِ دیدہ و دل میں
نئے موسم اگاتا ہوں
مَیں سوچوں کی منڈیروں پر نئی کرنیں سجاتا ہوں
(نعت کے ہاتھ تم بھی چوم لینا صحنِ مکتب میں)
مدینے کی ہواؤں سے
گجر بجنے سے کچھ پہلے
ادب سے گفتگو کرکے
میں خورشیدِ سحر کے ساتھ
دھرتی پر اترتا ہوں
مَیں ہر آنگن میں کھلتا ہوں
پرندہ میرے اندر کا
جوارِ گنبدِ خضریٰ کی ہریالی کے سارے موسموں کے نام جپتا ہے
مجھے ساون کا ہر منظر بدن پر اوڑھ لیتا ہے
مری آنکھیں برستی ہیں
مجھے تھوڑے دنوں کے بعد
یہی اشکوں کی طغیانی
عزیزِ جاں ٹھہرتی ہے
حروفِ نعت بنتی ہے