آرزوئے مدینہ کیا کر- نظم نعت (2018)

آرزوئے مدینہ کیا کر، تیری بگڑی ہوئی خود بنے گی
کہکشاں آسماں سے اتر کر، تیرے گھر میں چراغاں کرے گی

آرزوئے مدینہ کیا کر، تیرے دامن میں کلیاں کھلیں گی
خوشبوئیں ہمسفر ہوں گی تیری، تتلیاں راستے میں ملیں گی

آرزوئے مدینہ کیا کر، قریۂ جاں میں ہو گا اجالا
گفتگو بادِ طیبہ سے ہو گی، رحمتوں کی عطا ہو گی مالا

آرزوئے مدینہ کیا کر، مہرباں ہو گا پیرِ فلک بھی
مطمئن ہوں گی گھر میں کنیزیں، اور مشعل دعا کی جلے گی

آرزوئے مدینہ کیا کر، پھر دھنک ہر افق پر کھلے گی
چاندنی پر بچھائے گی اپنے، روشنی ہر قدم پر ملے گی

آرزوئے مدینہ کیا کر، تجھ کو آغوش میں لے گی رحمت
ہر طرف ہو گی، خود دیکھ لینا، وسعتِ دامنِ شہرِ نکہت

آرزوئے مدینہ کیا کر، ہوں گی رخصت غموں کی گھٹائیں
تیرے آنگن کی ویرانیوں میں، پر سمیٹیں گی دکھ کی ہوائیں