تاجدارِ حرم- نظم نعت (2018)

یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
میری بنجر زمینوں پہ برسے گھٹا
سنگریزوں کو لعل و گہر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
مَیں حوادث کے جنگل میں جاؤں کدھر
موسمِ زرد کو بے اثر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
آپ ﷺ کی سب کنیزیں بھی ہیں منتظر
رحمتیں اپنی شام و سحر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
روشنی میرے خوابوں کی تعبیر ہو
اب مداوائے چشمانِ تر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
ہر طرف اک مصائب کا طوفان ہے
شاخِ امید کو باثمر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
بام و در پر اداسی ہے چھائی ہوئی
میرا لبریز خوشیوں سے گھر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
مَیں گنہ گاروں مَیں سیہ کار ہوں
میرے ہر جرم سے درگذر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
کوئی پرسانِ حال زبوں بھی نہیں
میری فریاد کو معتبر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
جبرِ شب سے رہائی ملے، یانبی ﷺ
حرفِ غم اور بھی مختصر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء
اس طرف بھی کرم کی نظر کیجئے
آج بھی انتہاء اپنے الطاف کی
اپنے شاعر کے احوال پر کیجئے
یا شفیع الوریٰ
یا حبیبِ خدا
تاجدارِ حرم
سرورِ انبیاء