شہرِ حضور ﷺ میں- نظم نعت (2018)

سر تا قدم ہوں فضلِ خدائے رحیم میں
پہنچا ہوں میں حضور ﷺ کے شہرِ عظیم میں
روضے کی جالیوں پہ نظر جب مری پڑی
جنت کے در کھلے مرے ذوقِ سلیم میں

آنکھوں کو دھو کے کوثر و تسنیم سے ریاضؔ
دیکھی ہیں مَیں نے گنبدِ خضرا کی تابشیں
دیکھی ہیں مَیں نے آپ ﷺ کے در کی بلندیاں
دیکھی ہیں مَیں نے شہرِ پیمبر ﷺ کی رونقیں

اپنے قلم کو چومتا رہتا ہوں روز و شب
بابِ ثنا کے ایک اک حرف جلی میں ہوں
کتنا مَیں خوش نصیب ہوں لوحِ حیات پر
آقائے محتشم ﷺ کی مَیں روشن گلی میں ہوں

اے آسمانِ شہر پیمبر ﷺ مرا سلام
دیکھا تو ہو گا تو نے بھی میرے حضور ﷺ کو
دیکھا تو ہو گا چہرۂ انور کو جھوم کر
دیکھا تو ہو گا تو نے محمد ﷺ کے نور کو

حوشبو! سنا مجھے مرے آقا ﷺ کی گفتگو
کیسے فضائیں رقص میں رہتی تھیں ہر گھڑی
کیسے گلاب جھڑتے تھے ہونٹوں سے رات دن
کیسے چراغ بانٹتی پھرتی تھی روشنی

سردارِ دوجہاں کے تبسم کی بات کر
دانش کے پھول کس طرح کھلتے تھے ہر طرف
کچھ حال اُس زمانۂ اقدس کا بھی بتا
حکمت کے جام کس طرح ملتے تھے ہر طرف

یہ مرکزِ نگاہ ہے ہر آسمان کا
کیا کیا درِ حضور ﷺ پہ میری نظر میں ہے
آنکھیں مری ہیں عہدِ رسالت مآب ﷺ میں
میرا خیال دامنِ خیرالبشر ﷺ میں ہے