2015ء کی آخری نعتیہ نظم- نظم نعت (2018)

اِس برس موسم پذیرائی کا آنگن میں رہا
اس برس مہکے رہے اُن ﷺ کی عطاؤں کے چمن
اِس برس پھیلا رہا دستِ طلب بیمار کا
اُن ﷺ کے قدموں میں رہا شہرِ قلم، شہرِ سخن

اُن ﷺ کے الطاف و کرم کی بارشیں ہوتی رہیں
اُن ﷺ کی توصیف و ثنا کے تھے گلستاں ہر طرف
میرے ہونٹوں پر نئے پھولوں کی رعنائی رہی
میرے اشکوں نے کئے رکھا چراغاں ہر طرف

حجلۂ شب میں چراغِ آرزو جلتا رہا
چاندنی چٹکی رہی حُبِِ رسولِ پاک ﷺ کی
خوش نصیبی نے قدم چومے ہیں میرے رات دن
روشنی ہوتی رہی ہے صاحبِ لولاک ﷺ کی

چشمِ تر ڈوبی رہی اپنے ہی اشکوں میں اِدھر
ہم سفر راہِ مدینہ میں مہ و اختر رہے
حوشبوؤں کے پیرہن میں لفظ تھے میرے تمام
رقص کے عالم میں طیبہ کے کبوتر بھی رہے

’’آبروئے ما‘‘ کو حرفِ معتبر جانا گیا
آپ ﷺ کے در پر رہی میری ’’غزل کاسہ بکف‘‘
اُن ﷺ کے الطافِ کریمانہ رہے سایہ فگن
آنکھ کا سرمہ بنی خاکِ مدینہ و نجف

اِس برس بھی اشک دہلیز پیمبر ﷺ پر رہے
اِس برس بھی کلکِ مدحت کو ملا اذنِ ثنا
اِس برس بھی فکرِ تازہ کے کھلے تازہ گلاب
اِس برس بھی نعتِ دلآویز کا موسم کُھلا

اِس برس مہکی رہی کشتِ دل و جانِ عزیز
اس برس بھیگا رہا داماں مرے افکار کا
اس برس اوجِ ثریا پر رہی کلکِ ادب
رنگ ہی کچھ اور تھا گھر کے در و دیوار کا