دھوپ ہی بن گئی ہے مرا سائباں- نظم نعت (2018)

دم بخود ہے قلم، چپ ہے میری زباں
اشکِ تر میں ہے ڈوبی ہوئی داستاں
خیمۂ جاں میں بس آگ ہی آگ ہے
زندگی کا سفر ہے دھواں ہی دھواں
تتلیاں شاخِ گل پر سسکنے لگیں
خوشبوئیں ہیں پریشان جائیں کہاں
سانس لینا بھی دشوار ہے یا نبی ﷺ
آ پڑا ہے مسائل کا کوہِ گراں
کسمپرسی کے عالم میں ہیں روز و شب
دھوپ ہی بن گئی ہے مرا سائباں

غم کی تصویر ہے میرا شہرِ سخن، آبدیدہ ہیں سب میرے لوح و قلم
یا حبیبِ خدا، یا رسولِ امیں! میرے احوال پر بھی ہو چشمِ کرم

خاک ہی خاک ہے ہر چمن زار میں
خوف ہی خوف ہے شب کے آثار میں
دشت و صحرا میں تنہا ہوں جاؤں کدھر
چھپ گیا میرا سایہ بھی دیوار میں
ایک لرزش سی ہے میرے ہر لفظ میں
ایک لکنت سی ہے میری گفتار میں
بے گناہی مری ہچکیوں میں ہے گم
جرمِ ناکردہ ہیں میری دستار میں
یا نبی ﷺ، امنِ عالم کے پرچم کھُلیں
زخم ہی زخم ہیں دن کے اخبار میں

حسرتیں میرے دامن سے لپٹی ہوئی، میری قسمت میں محرومیاں ہیں رقم
یا حبیبِ خدا، یا رسولِ امیں! میرے احوال پر بھی ہو چشمِ کرم

میرا ہر ایک آنسو دعاؤں میں ہے
آخرِ شب کی سب التجاؤں میں ہے
مجھ کو نوحہ گری کا ہے منصب ملا
میری فریاد میری نواؤں میں ہے
عافیت کا سویرا مقدّر بنے
اضطرابِ مسلسل ہواؤں میں ہے
قافلہ بارشوں کا کہاں رک گیا
خشک سالی کا موسم گھٹاؤں میں ہے
ایسے سورج کو لے کر کرے کیا کوئی
گھپ اندھیرا اگر ان فضاؤں میں ہے

امتِ ناتواں کا کریں ذکر کیا، گر گیا اس کے ہاتھوں سے آقا ﷺ علم
یا حبیبِ خدا، یا رسولِ امیں! میرے احوال پر بھی ہو چشمِ کرم