صبا! لب پر حروفِ التجا رکھتی رہے یا رب!- اکائی (2018)

صبا!
لب پر حروفِ التجا رکھتی رہے یا رب!
صبا!
افکارِ تازہ اُن کی چوکھٹ سے اٹھا لائے
صبا!
طیبہ کی نگری میں مرا گھر ڈھونڈنا جا کر
صبا!
میری بیاضِ نعت سے کچھ منتخب کر لے
صبا!
خوشبو کے ہاتھوں پر تو رکھ گجرے درودوں کے
صبا!
اشکِ رواں لے کر کھڑے رہنا قیامت تک
صبا!
امشب مؤدب ساعتوں میں وَجْد میں آنا
صبا!
جا کر مواجہے میں مری روداد سب کہنا
صبا!
سرکار ﷺ کے قدموں میں میرے اشک رکھ دینا
صبا!
کہنا کہ آقا ﷺ زخم برسے ہیں ہواؤں سے
صبا!
کہنا کہ محکومی مقدّر بن گئی اپنا
صبا!
کہنا کہ امت زخم خوردہ کب تلک بھاگے
صبا!
کہنا کہ قسمت کے ستارے گردشوں میں ہیں
صبا!
کہنا دریچوں میں دیے اب بجھنے والے ہیں
صبا!
کہنا، برہنہ سر کھڑی ہے دخترِ حوّا
صبا!
کہنا کہ امت کسمپرسی کے ہے عالم میں
صبا!
کہنا چراغوں کا دھواں باقی ہے آنگن میں
صبا!
کہنا، دعائیں لوٹ آتی ہیں سرِ مقتل
صبا!
کہنا پھٹے ہیں بادباں اپنے سفینوں کے
صبا!
کہنا، گری ہیں بجلیاں ہر آشیانے میں
صبا!
کہنا، مکمل ہو چکی تدفین غیرت کی
صبا!
کہنا، کفن اجداد کے نیلام گھر میں ہیں
صبا!
کہنا، مقفّل ہو رہی ہیں اب ہوائیں بھی
صبا!
کہنا کہ بچے خواب دیکھیں کس لئے شب بھر
صبا!
کہنا بہت مظلوم ہیں ہم یارسول اﷲ
صبا!
کہنا، دریچوں پر ہوا دستک نہیں دیتی
صبا!
کہنا، سرِ بازار رسوائی ہی رسوائی
صبا!
کہنا، ہوا آلودگی کے پیرہن میں ہے
صبا!
کہنا، برسنے کا ہنر آنکھیں بھی کھو بیٹھیں
صبا!
کہنا بدن کب سے ہوس کی دسترس میں ہے
صبا!
کہنا، تعاقب میں ہمارے ظلمتِ شب ہے
صبا!
کہنا، ہتھیلی پر کوئی سورج نہیں چمکا
صبا!
کہنا، اندھیرے ہی اندھیرے ہیں گلستاں میں
صبا!
کہنا، مقیّد ہو رہے ہیں ہم جزیروں میں
صبا!
کہنا کہ ہے مقروض گندم کا ہر اک خوشہ
صبا!
کہنا کہ اٹھتے ہیں جنازے روز گلیوں سے
صبا!
کہنا کہ بارش خون کی ہر وقت ہوتی ہے
صبا!
کہنا، شرف انسان کا لت پت لہو میں ہے
صبا!
کہنا کہ ہے حرفِ دعا کھیتوں کی ہریالی
صبا!
کہنا کہ امت صبر کے ہے ریگ زاروں میں
صبا!
کہنا کہ ہجرت کر گئی ہے کہکشاں آقا ﷺ
صبا!
کہنا کہ خوشبو کب طوافِ گل میں رہتی ہے
صبا!
کہنا، کرم کی التجا دامن میں ہے آقا ﷺ
صبا!
کہنا، ردائے عافیت آدم کے بیٹوں کو
صبا!
کہنا عطا ہو امن کا خیمہ سرِ مقتل
صبا!
کہنا، کرم آقا ﷺ ، کرم آقا ﷺ ، کرم آقا ﷺ
صبا!
کہنا کہ آغوشِ کرم ہو وا سرِ محشر
صبا!
کہنا، تکبر کی ہے مسند پر ابھی قاتل
صبا!
کہنا، دیانت کا نہیں ہے لفظ تختی پر
صبا!
کہنا، سیاست یہ ہوس کاروں کی لونڈی ہے
صبا!
کہنا، دیانت کی نئی تفہیم رائج ہے
صبا!
کہنا، نہیں ہے عِلم، حکمت اور دانائی
صبا!
کہنا کہ حرفِ صدق خارج مکتبوں سے ہے
صبا!
کہنا، ہوائے خلدِ طیبہ بھی اِدھر آئے
صبا!
کہنا، چراغوں کو بھی جلنے کا ہنر دیجے
صبا!
کہنا، پسِ دیوارِ زنداں ہم رہا کب ہیں
صبا!
کہنا، امیرِ کارواں لے ہوش کے ناخن
صبا!
کہنا، رہے مدقوق لمحوں میں وطن کب تک
صبا!
کہنا، مسلط ہے رعونت تختِ سلطاں پر
صبا!
کہنا، اتر آئے خنک موسم گلستاں میں
صبا!
کہنا، کہ ٹل جائیں بلائیں شامِ ماتم کی